امریکہ میں 24 گھنٹوں کے دوران فائرنگ کے دو بڑے واقعات میں 30 افراد ہلاک

لاہور نیوز 42 ( ویب ڈیسک) اطلاعات کے مطابق امریکہ میں 24 گھنٹوں کے دوران فائرنگ کے دو بڑے واقعات میں 30 افراد ہلاک ہوگئے۔ فائرنگ کا پہلا واقعہ امریکی ریاست ٹیکساس میں پیش آیا جہاں  کم ازکم 20 افراد مارے گئے جبکہ چند ہی گھنٹوں بعد اوہائیو میں فائرنگ  کے نتیجے میں 29 افراد ہلاک ہوگئے اور مسلح شخص بھی مارا گیا۔

مزید جانیئےمسلم لیگ ن پاکپتن جلسہ ۔۔۔۔۔ مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر کا مبائل چوری

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس میں مقامی پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ الپاسو کے شاپنگ کمپلکس میں واقع وال مارٹ میں پیش آیا۔ ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ فائرنگ کے واقعہ میں کم ازکم20افراد ہلاک اور اور 26 زخمی ہوئے۔  ٹیکساس کے گورنر نے اس واقعہ کو ’ٹیکساس کی تاریخ کا مہلک ترین دن قرار دیا ہے۔ حکام نے ایک 21 سالہ شخص کو حراست میں لیا ہے اور جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا کہ وہ واحد گن میں ہے۔ پولیس ترجمان نے تصدیق کی کہ مشتبہ حملہ آور زیر حراست ہے۔ امریکی میڈیا میں اس کی شناخت21 سالہ پیٹرک کے طور پر کی گئی ہے۔ اس سے قبل الپاسوکے میئر نے سی این این کو بتایا تھا کہ تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ٹیکساس فائرنگ کو بزدلانہ فعل قرار دیا اور کہا کہ معصوم لوگوں کے قتل کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا۔ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ’ آج الپاسو ٹیکساس کے فائرنگ کا واقعہ نہ صرف المناک ہے بلکہ یہ ایک بزدلانہ فعل بھی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں جانتا ہے کہ میں اس ملک میں ہر ایک کے ساتھ اس نفرت انگیز فعل کی مذمت کرتا ہوں۔ کوئی بھی وجہ یا بہانہ کبھی بھی معصوم لوگوں کے قتل کا جواز نہیں بن سکتا۔‘

Today’s shooting in El Paso, Texas was not only tragic, it was an act of cowardice. I know that I stand with everyone in this Country to condemn today’s hateful act. There are no reasons or excuses that will ever justify killing innocent people….
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) August 4, 2019

پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ فائرنگ کے متاثرین میں متعدد افراد شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعات جو سامنے آئی ہیں اس کے مطابق حملہ آور نے فائرنگ میں رائفل کا استعمال کیا لیکن یہ بات حتمی نہیں ہے۔ اسپتال ذرائع نے بتایا 22 زخمیوں کو ڈیل سول میڈیکل سینٹر لایا گیا ہے جن میں بچے شامل ہیں۔ ٹیکساس پولیس وال مارٹ سٹور پر فائرنگ کے واقعے کی تفتیش ممکنہ نفرت انگیز جرم کے طور پر کر رہی ہے۔ فائرنگ کرنے والے 21 سالہ شخص نے فائرنگ کے بعد وال مارٹ سٹور کے باہر اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا۔  الپاسو کے پولیس چیف گریگ ایلن نے میڈیا کو بتایا کہ اس وقت پولیس فائرنگ کرنے والے شخص سے ایک منشور برآمد کیا ہے جو کہ کسی حد تک اس کا تعلق نفرت انگیز جرائم سے جوڑتا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق وال مارٹ کے ملازمین اور عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے فائرنگ کی آوازیں سنیں جس کے بعد وال مارٹ میں افراتفری مچ گئی۔ کسٹمرز اور ملازمین جان بچانے کی کوشش میں بھاگ رہے تھے۔ سی بی ایس نیوزکو ایک عینی شاہد نے بتایا وال مارٹ میں داخل ہوا تو کم از کم دس فائر سنے۔ ایک ادھیڑ عمر عورت کو فرش پر گرے دیکھا۔ یقین سے نہیں کہہ سکتا اسے گولی لگی تھی یا نہیں۔
وائٹ ہاوس کے ڈپٹی پریس سیکریٹری نے ایک بیان میں کہا کہ’ صدر ٹرمپ کو الپاسو میں فائرنگ کے واقعہ سے متعلق بریف کردیا گیا۔صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اٹارنی جنرل اور ٹیکساس کے گورنر سے بھی رابطہ کیا ہے‘۔  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ کی کہ ’ الپاسو میں قتل عام کا خوفناک واقعہ پیش آیا ہے۔ وہاں سے بہت بری خبریں آرہی ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ بہت سے لوگ مارے گئے ہیں‘۔ ریاست ،مقامی حکام اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں‘۔ گورنر سے بات کرکے انہیں وفاق کی مکمل حمایت کیلئے کہا ہے ‘۔

دوسری جانب امریکی ریاست اوہائیو میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ملزم سمیت 10 افراد ہلاک جبکہ 16 زخمی ہوگئے ۔خبررساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اتوار کی صبح امریکی ریاست اوہائیو کے شہر ڈیٹن میں مسلح شخص نے بار کے نزدیک اندھا دھند فائرنگ کی۔ حکام نے فائرنگ کے واقعے سے متعلق زیادہ تفصیلات فرا

Related posts

Leave a Comment