دوران حمل شراب نوشی کرنے والی خواتین کے بچوں کے دماغ کمزور ہو جاتے ہیں

لاہورنیوز42(ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے حاملہ خواتین کے لیے شراب نوشی کے ایک سنگین نقصان کی نشان دہی کی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ جو حاملہ خواتین دوران حمل شراب پیتی ہیں ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے دماغ دوسرے بچوں کی نسبت کہیں زیادہ کمزور ہوتے ہیں۔

مزیدجانئے:جنسی تعلقات سے انکار پر دبئی میں مقیم پاکستانی خاتون کو بلیک میل کرنے والا پاکستانی رشتے دار گرفتار

برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دوران حمل ماں کے شراب پینے سے بچے کے دماغ کی فعالیت شدید متاثر ہوتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ماں کی یہ عادت بچے کے پیدائش کے وقت وزن پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور وہ کم وزن پیدا ہوتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر لوسیا زکولو کا کہنا تھا کہ ”شراب کے ماں کے پیٹ میں پرورش پاتے بچوں کے لیے نقصانات کے شواہد ہر نئی تحقیق کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ہوتے جا رہے ہیں چنانچہ ہم خواتین کو نصیحت کریں گے کہ دوران حمل شراب نوشی مت کریں۔ اس سے ان کے بچے کو ذہنی و جسمانی طور پر ایسا نقصان پہنچ سکتا ہے جو تمام عمر ان کے ساتھ رہے گا۔“

Related posts

One Thought to “دوران حمل شراب نوشی کرنے والی خواتین کے بچوں کے دماغ کمزور ہو جاتے ہیں”

Leave a Comment