تہذیب یافتہ اقوام

تحریر ڈاکٹر عطاءالودود

خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں بڑے ترنگ سے کہا تھا کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیاء ہوتی ہے کل سے سوشل میڈیا پہ بحث چل رہی ہے کہ مینار پاکستان پہ رونماء ہونے والا واقعہ کس کی غلطی ہے اور با ضابطہ ٹرینڈز مظلوم لڑکی کے خلاف بنائے جارہے ہیں اگر اسی طرح ہجوم کو اپنی مرضی کے فیصلے کرنے دئیے جائیں تو یقینا ہمارا شمار کسی تہذیب دار قوم میں شمار نہیں ہوگا بلکہ جس کے ساتھ جتنا بڑا جتھا ہو گا وہ اتنی ہی آسانی سے اپنی مرضی کا نتیجہ حاصل کر لے گا۔

یہاں یہ بحث ہی بے معنی ہے کہ لڑکی نے کیسے کپڑے پہنے یہاں سوال ہے ان مومنین کا جنھیں نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے کیا یہ لوگ یورپ جا کر ایسا طرز عمل دکھا سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں کیوں کہ وہاں آپ کسی کی شخصی آزادی مجروح نہیں کرسکتے وہاں کا قانون آپ کو اس کی کسی بھی حالت میں اجازت نہیں دے گا

بہت سے ہم میں سے ایسے ہیں جو افغانستان میں طالبان کی حکومت آجانے کے بعد خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں لیکن کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو افغانستان جا کر رہائش اختیار کرنے کا سوچ رہا ہو بلکہ ابھی بھی موقع ملے تو اکثر برادران اسلام یورپ کو ہی اپنا ٹھکانہ بنانا چاہیں گے

آج ہی ایک اندوہناک خبر دیکھی ڈر تو اس کا تھا لیکن پھر بھی خواہش تھی کہ ایسا کچھ نا ہو لیکن دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے کراچی سے اطلاع ہے کہ کورونا کے جعلی ویکسین سرٹیفیکیٹ حاصل کریں وہ بھی صرف دو ہزار میں اور رونا ڈالتے ہیں کہ دنیا نے ہمیں کہوں ریڈ لسٹ میں ڈالا ہوا ہے؟ اگر اب بھی آپ جواب کے منتظر ہیں تو جان لیں کہ آپ کا تعلق دنیا کی ذہین ترین قوم سے ہے جس کے خلاف دنیا سازشیں کر رہی ہے۔

انگریزی خبروں کے لئے یہاں کلک کریں

نیا پاکستان پرانی کرپشن

Related posts

Leave a Comment