سنامکی کے نقصانات

سنامکی کے نقصانات

سارا پاکستان پاگلوں کی طرح بغیر طبیب کے مشورے خود طبیب بنتے ہوئے سنامکی کا قہوہ چڑھاتا جا رہا ہے اک بات ذہن میں رکھیں اگر آپ کا نظام ہضم اور نظام اخراج خراب ہو گیا تو آپ باآسانی کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ ان دونوں کے نظام کے خراب ہونے سے آپ کا مدافعتی نظام کولیپس کر سکتا ہے خدارا ہوش کے ناخن لیں۔۔

کسی مستند طبیب کے مشورے کے بغیر کچھ بھی مت استعمال کریں.

آج تھوک میں 50-52 ہزار من اور پرچون میں پندرہ سولہ سو کلو تک فروخت ہو رہا ہےخیر سے دو سو رپے کلو ملنے والا سنا مکی آج تھوک میں ایک ہزار رپے کلو تک پہنچ چکا ہے.

یہ ایک دائمی قبض ختم کرنے والا قہوہ ہے چند یوٹیوبر نیم حکیموں نے بطور کرونا ختم کرنے والا قہوہ بتا بتا کر اتنا مہنگا کر دیا کہ چار پانچ گنا مہنگا بھی ہو چکا اور پہلے ہی کرونا میں بخار اور کھانسی سے آدھ موئے ہوۓ مریضوں کو پلا پلا کر جلابوں سے مارنے پر تلے ہیں کہ مریض کرونا سے تو شائد بچ جاتا مسلسل ڈائریا سے باتھ روم میں ہی مروا دیں گے ۔ 2000 سال پرانی طب کی تایخ اٹھا کر دیکھ لیں مفرد سنامکی کبھی ان علامات کے لیۓ استعمال نہیں ہوئی جو کرونا کی ہیں ۔ یہ گرم خشک مزاج رکھنے والی مسہل دوا ہے ۔ اور کرونا کے مریض میں تو خشکی کا مزاج غالب ہوتا ہے ۔ ایسے مریض کو گرم تر غذا اور ادویات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ خدا را بغیر مستند معالج کے خود پر اوٹ پٹانگ تجربات نہ کریں ۔
حکیم محمد نوید زاہد (گولڈ میڈلسٹ)

Related posts

Leave a Comment